ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کوئی سیاسی جماعت خاندانی وارثت سے عاری نہیں: کمارسوامی

کوئی سیاسی جماعت خاندانی وارثت سے عاری نہیں: کمارسوامی

Sun, 29 Nov 2020 11:42:56    S.O. News Service

بنگلورو،29؍نومبر(ایس او  نیوز) سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا ہے کہ خاندانی سیاست ہر سیاسی جماعت میں ہے اس کے لئے صرف جے ڈی ایس کو نشانہ بنانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں برسراقتدار بی جے میں وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے فرزند بی وائی وجیندرا کی طرف سے جس طرح تمام سرکاری امور میں مداخلت کی جا رہی ہے ان کے دور اقتدار میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے فرزند نکھل کمارسوامی نے کبھی سرکاری امور میں مداخلت نہیں کی۔ کبھی کسی سرکاری افسر کے تبادلہ میں انہوں نے سفارش نہیں کی اور نہ ہی وہ اس عمل میں شامل ہوئے۔ گرام پنچایت انتخابات کے سلسلے میں جے ڈی ایس کے دفتر جے پی بھون میں ہوئے ایک اجلاس میں حصہ لیتے ہوئے کمارسوامی نے کہا کہ جے ڈی ایس پر بار بار یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ پارٹی ایک خاندان کی سیاست کو بڑھاوا دیتی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی سیاسی جماعت خاندانی سیاست سے محفوظ نہیں ہے اس سلسلہ میں ہونے والی تنقیدوں پر کمارسوامی نے اپنے فرزند نکھل کمارسوامی اور بھتیجے پرجول ریونا سے کہا کہ وہ اس کا موثر جواب دیں اور بتادیں کہ ریاست کی سیاست میں اب خاندانی سیاست کہاں چل رہی ہے اور کون اپنے باپ کی کرسی کے دم پر سرکاری امور میں راست مداخلت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے ڈی ایس کی سیاست اقتدار کے لئے نہیں بلکہ عوام کی موثر نمائندگی اور ان کی خدمت کے لئے ہے۔ عوام کے سکھ دکھ میں حصہ لے کر ا ن کا ساتھ دینے پر جے ڈی یس کو یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں جے ڈی ایس کی بھلے ہی ہار ہوئی لیکن نتائج کے بعد سدارامیا نے جو بیان دیا اس پر توجہ دینی چاہئے اس میں انہوں نے کانگریس کی ہار کے لئے جے ڈی ایس کو ذمہ دار قرار دیا اس سے اندازہ لگالینا چاہئے کہ جے ڈی ایس کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا اور سیلاب نے ریاست کے دیہی علاقو ں کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ریاست کے بعض سرکاری کارپوریشنوں میں فنڈ ہی نہیں ہے۔اس موقع پر کمارسوامی کے فرزند نکھل کمارسوامی نے بھی اپنے خیالات ظاہر کئے اور کہا کہ آنے والے دنوں میں جے ڈی ایس میں نوجوانوں کی قوت کو بڑھانے کے لئے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔


Share: